مون ریکر مشن ESA کے فیز A مطالعے کے لیے منتخب

اس مشن میں لونر آؤٹ پوسٹ اور نیو ویو جی ایم بی ایچ جیسی نجی کمپنیاں شامل ہیں، اور اسے 2030 میں چاند کے جنوبی قطب پر لانچ کرنے کا منصوبہ ہے۔

  • مون ریکر مشن کو ESA کے چھوٹے مشن اقدام کے تحت فیز A کا مطالعہ دیا گیا۔
  • مشن کا منصوبہ چاند کے جنوبی قطب پر اترنے اور کم قمری مدار میں کام کرنے کا ہے۔
  • مشن کی لانچ کی تاریخ 2030 رکھی گئی ہے، جبکہ لونر آؤٹ پوسٹ نے 2030 سے پہلے چاند پر 10 مشن لانچ کرنے کا ہدف رکھا ہے۔
  • لکسمبرگ میں لونر آؤٹ پوسٹ کی ٹیم مون ریکر کے لیے جدید تھرمل مینجمنٹ حل تیار کر رہی ہے۔

کیا ہوا

مون ریکر مشن کو یورپی خلائی ایجنسی (ESA) کے چھوٹے مشنوں کے اقدام کے تحت فیز اے کے مطالعے کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔

یہ مشن چاند کی تلاش کے میدان میں نجی کمپنیوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون کی ایک مثال ہے۔

ہم کیا جانتے ہیں

مون ریکر مشن کو ESA کے چھوٹے مشن اقدام کے تحت فیز A کے مطالعے کے لیے چنا گیا ہے۔ اس مشن کی قیادت نیو ویو جی ایم بی ایچ کر رہی ہے، جو نیو ویو انکارپوریشن کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے اور اس مشن کے مطالعے کی سربراہی کر رہی ہے۔

لونر آؤٹ پوسٹ یورپ اس منصوبے میں شراکت دار ہے۔ مشن کا منصوبہ چاند کے جنوبی قطب پر اترنے اور کم قمری مدار میں کام کرنے کا ہے۔

مشن کی لانچ کی تاریخ 2030 رکھی گئی ہے۔

لکسمبرگ میں لونر آؤٹ پوسٹ کی ٹیم تھرمل ڈیزائن اور ماڈل بیسڈ سسٹمز انجینئرنگ کی قیادت سنبھال رہی ہے، اور مون ریکر کے لیے جدید تھرمل مینجمنٹ حل تیار کر رہی ہے۔

لونر آؤٹ پوسٹ نے 2030 سے پہلے چاند پر 10 مشن لانچ کرنے کا ہدف بھی رکھا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

قمری صنعت پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ انتخاب ESA کے چھوٹے مشنوں کے ذریعے چاند کی جانب بڑھتے ہوئے اقدامات اور نجی شعبے کے ساتھ بڑھتی ہوئی شراکت داری کو ظاہر کرتا ہے۔ چاند کے جنوبی قطب کو لینڈنگ سائٹ کے طور پر چننا اس خطے کی سائنسی اور تجارتی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔

ذرائع

  1. 1.Lunar Outpost news

یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے