ناسا نے اسٹاربرسٹ مشن کی لانچ اسپیس ایکس کو سونپ دی
ناسا نے اسٹاربرسٹ نامی چھوٹے سیٹلائٹ مشن کے لیے اسپیس ایکس کو فالکن 9 راکٹ پر بینڈ ویگن رائیڈ شیئر لانچ کا ٹاسک آرڈر جاری کیا ہے۔
- ناسا نے اسٹاربرسٹ مشن کی لانچ کے لیے اسپیس ایکس کو فرم فکسڈ ٹاسک آرڈر دیا ہے۔
- یہ لانچ فالکن 9 راکٹ سے اسپیس لانچ کمپلیکس 40 پر بینڈ ویگن رائیڈ شیئر پروگرام کے تحت ہوگی۔
- اسٹاربرسٹ مختصر گاما رے پھٹنے کی نشاندہی اور کثیر پیغامی فلکیات کے مشاہدے کے لیے تیار کردہ چھوٹا سیٹلائٹ ہے۔
- VADR IDIQ معاہدے کی کل ممکنہ مالیت ایک ارب امریکی ڈالر ہے اور اس کا انتظام کینیڈی اسپیس سینٹر میں واقع ناسا کے لانچ سروسز پروگرام دفتر سے ہے۔
کیا ہوا
ناسا نے اسپیس ایکس کو اسٹاربرسٹ مشن کی لانچ خدمات فراہم کرنے کے لیے منتخب کر لیا ہے۔
یہ مشن فالکن 9 راکٹ کے ذریعے بینڈ ویگن رائیڈ شیئر پروگرام کے تحت اسپیس لانچ کمپلیکس 40 سے روانہ کیا جائے گا اور اس کا مقصد مختصر گاما رے پھٹنے کا مشاہدہ کرنا ہے۔
ہم کیا جانتے ہیں
ناسا نے اسپیس ایکس کو اسٹاربرسٹ مشن کی لانچ خدمات سونپی ہیں اور اس سلسلے میں ایک مقررہ قیمت (فرم-فکسڈ-پرائس) کا ٹاسک آرڈر دیا ہے۔
یہ لانچ فالکن 9 راکٹ پر اسپیس لانچ کمپلیکس 40 سے انجام پائے گا اور یہ اسپیس ایکس کے بینڈ ویگن رائیڈ شیئر مشن کا حصہ ہوگا۔
اسٹاربرسٹ ایک چھوٹا سیٹلائٹ ہے جسے مختصر گاما رے پھٹنے کی نشاندہی اور کثیر پیغامی فلکیات کے مشاہدے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ ناسا کے ایسٹرو فزکس پائنیئرز پروگرام کے تحت آتا ہے۔
یہ ٹاسک آرڈر وی اے ڈی آر (VADR) نامی غیر معینہ ترسیل/غیر معینہ مقدار (IDIQ) معاہدے کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کی کل ممکنہ مالیت ایک ارب امریکی ڈالر ہے اور یہ دس سال پر محیط ہے۔ اس کا انتظام ناسا کے لانچ سروسز پروگرام دفتر کے پاس ہے جو کینیڈی اسپیس سینٹر میں واقع ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
ناسا کا اسٹاربرسٹ جیسے چھوٹے سائنسی مشن کے لیے اسپیس ایکس کے رائیڈ شیئر پروگرام کا انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ خلائی سائنس کے مشن تیزی سے تجارتی لانچ کے سستے مواقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ قمری صنعت کے لیے یہ اس لیے اہم ہے کہ اسی طرح کے سستے لانچ آپشن مستقبل میں چاند سے متعلق چھوٹے پے لوڈز کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
پس منظر
اسپیس لانچ کمپلیکس 40 (SLC-40) کیپ کیناویرل اسپیس فورس اسٹیشن پر واقع ہے۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے